تازہ ترین
کام جاری ہے...
ہفتہ، 28 جون، 2014

ایک سفر بنوں تک

ہفتہ, جون 28, 2014
رات تقریبا ساڑھے گیارہ بجے کا وقت تھا۔ میں گھر میں موجود تھا اور رات کا کھانا کھانے کے بعد سونے کی تیاری میں مصروف تھا۔ اس دوران میرے موبائل کی گھنٹی بجی ۔ نمبر دیکھا تو انجینئر صاحب کا فون تھا،کہنے لگا آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔
میں نے کہا جی حکم فرمائیں ، تو آگے سے انجینئر صاحب بول پڑے کہ کل میں نے بنوں جانا ہے ۔اور میری پوری کوشش یہی ہوگی کہ اپکو بھی ساتھ لے جاؤں۔
میں نے کہا جناب خیریت تو ہے ،تو انہوں نے کہا کہ وزیرستان آپریشن کا اعلان ہوگیا ہے ،اور متاثرین بڑی مشکل سے بنوں پہنچ رہے ہیں۔ چنانچہ ان متاثرین کیلئے ضروری اقدامات کرنے کیلئے بعض اعلیٰ حکام اور چند فلاحی اداروں سے ملاقاتیں طے ہوگئی ہیں،اسلئے تمام ٹیم کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ ہماری خواہش یہی ہوگئی کہ آپ بھی ہمارے ساتھ چلے جائیں۔

میں نے بتایا کہ ٹھیک ہے ،میں سوچ کر جواب دیتا ہوں، اگلے دن کچھ کام ضروری تھے،اسلئے فیصلہ نہیں کرپا رہا تھا۔لیکن آخر میں انجینئر صاحب کو بتا دیا کہ کل اگر دس یا گیارہ بجے نکلیں تو ممکن ہے کہ میں بھی آپکا ہم سفر بن سکوں۔خیر وہ اس پر بھی راضی ہوگئے۔اور یوں ہم نے کل بنوں جانے کی تیاری شروع کی۔
چنانچہ اگلی صبح چند ضروری کام نمٹانے کے بعد ہم بنوں کیلئے روانہ ہوئے۔بنوں عام طور پر سفر انڈس ہائی وے سے کیا جاتا ہے ۔جو کہ پشاور سے ہوتا ہوا کراچی جا پہنچتا ہے۔ انڈس ہائی وے پشاور سے کوہاٹ تک دو رویہ ہے،لیکن اسکے بعد سڑک کے درمیان پارٹیشن ختم ہوجاتا ہے اور یہ ایک چوڑے سڑک کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

ضلع پشاور کے حدود سے نکلنے کے بعد انڈس ہائی وے پر


لگتا ہے۔اس علاقے کے کھیتوں میں خربوزوں کی یہ چھوٹی نسل خوب کاشت کی گئی ہے،کیونکہ سڑک کےکنارے کافی تعداد میں نظر آئے۔



متنی کے علاقے میں داخل ہوتے ہوئے۔
یہ وہ علاقہ ہے جہاں رات کو عسکروی گروپوں کی حکومت ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جس پولیس والے کو سزا دینی ہوتی ہے تو ان کا ٹرانسفر یہاں کردیا جاتا ہے۔

علاقہ  متنی کی بدامنی کے سبب یہاں کے پولیس تھانے ایک قلعہ کی شکل میں بنائے گئے ہیں،تاکہ پولیس اہلکاروں کو زیادہ حفاظت فراہم کی جا سکے۔


متنی کے علاقے سے گذرتے ہوئے ایف سی اہلکاروں کا چیک پوسٹ ،یہاں آپ کا شناختی کارڈ چیک کیا جا سکتا ہے۔


متنی چونکہ درہ آدم خیل کے قریب واقع ہے ،اسلئے یہاں کی سیکورٹی پولیس کے ساتھ ساتھ ایف سی دستوں کو بھی سونپ  دی گئی ہے۔
حیرت اس بات پر ہے کہ اتنی سخت سیکورٹی کے باوجود یہاں سیکورٹی اداروں کے کئی اعلیٰ آفسران کے سر تن سے جدا کئے جا چکے ہیں۔ جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یا تو عسکری گروہیں کافی مضبوط ہیں، یا ہمارے ملک کے سیکورٹی ادارے کافی کمزور و نااہل ہیں،اور یا جان بوجھ کر اس قسم کے حالات پیدا کئے جا ہے ہیں۔

درہ آدم خیل کے حدود شروع ہونے والے ہیں۔اس درہ کے رہائشی ہر قسم کے اسلحہ کے نقول بنانے کے ماہر ہیں۔چنانچہ انکی اس مہارت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اس علاقے کے نوجوانوں کو مختلف سرکاری اسلحہ فیکٹریوں میں بھرتی کیا۔جس کے سبب اس علاقے کی نوجوانوں کی صلاحیت غلط ہاتھوں میں جانے سے محفوظ رہ گئی۔
لیکن آج بھی پاکستان بھر میں معیاری و غیر معیاری اسلحہ یہاں بن کر سپلائی کیا جاتا ہے۔



ایک ایسا چوک ،جہاں سے درہ بازار اور کوہاٹ ٹنل کی راہیں جدا ہوجاتی ہیں۔ کوہاٹ ٹنل کے بننے سے پہلے انڈس ہائی وے درہ بازار کے درمیان سے ہو کر گذرتی تھی،جس کے سبب درہ بازار کی رونقیں بھی بحال تھیں۔لیکن کوہاٹ ٹنل کیلئے الگ بائی پاس اور درہ آدم خیل میں پے در پے آپریشنوں نے اس بازار کی رونقیں ماند کردی۔


لو جی کوہاٹ ٹنل کے بائی پاس تک پہنچ گئے۔بائی پاس کے کنارے ایک بورڈ ،جس پر پشتو میں خوش آمدیدی پیغام لکھا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہر وقت آسکتے ہو،ہم مہمان نوازی کیلئے تیار ہیں


کوہاٹ ٹنل کے بائی پاس کے شروع میں ایک برساتی نالے پر بنا پُل۔لیکن جہاں پورا ملک عسکری اداروں اور عسکری گروپوں کے درمیان جاری کشمکش سے متاثر ہے،وہاں یہ پُل بھی انکے تختہ مشق بننے سے محفوظ نہ رہ سکا۔کئی بار اسکو تباہ کیا گیا،اور پھر بنایا گیا ،پھر تباہ کیا گیا،پھر بنایا گیا،غرض کئی سالوں تک چوہے بلی کا یہ کھیل جاری رہا۔ ابھی شکر ہے کہ چند مہینوں سے یہ صحیح سالم ہے۔


درہ آدم خیل کے پہاڑ اہل علاقے کیلئے سونے کے انڈے دینے والی مرغی ثابت ہوئے۔کیونکہ ابھی دو تین سال قبل یہاں کوئلے کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے۔جس کو اہل علاقہ نے اپنے کنٹرول میں لے کر خوب مال بنایا ۔لیکن پھر عسکری اداروں نے اس علاقے سے کوئلہ نکالنے پر پابندی لگائی۔
درہ آدم خیل کے ایک رہائشی کے بقول،ہمیں نہیں معلوم کہ یہ ادارے ہم سے کیا چاہتے ہیں۔
لیکن یہ بات طے ہے  کہ اس پر خوب لے دے ہوئی۔
فی الحال تازہ صورت حال کا علم نہیں ہوسکا کہ کس طرف کا پلہ بھاری ہے۔


چونکہ بائی پاس پہاڑوں کے کنارے کاٹ کر بنایا گیا ہے،اسلئے درہ آدم خیل کی آبادی سے یہ کافی اونچا بنا ہے۔آپ خود بھی دیکھ سکتے ہیں۔




درہ آدم خیل کے پہاڑوں کو چیرتا ہوا انڈس ہائی وے

کوہاٹ ٹنل سے پہلے آرمی چیک پوسٹ۔
یاد رہے اگر آپ پہلی مرتبہ اس روٹ پر جا رہے ہیں،تو علاقے کی سنگینی کے سبب  چیک پوسٹوں پر کافی محتاط رہیں،بصورت دیگر آپ کو شوٹ کیا جا سکتا ہے۔


کوہاٹ ٹنل کے شمالی سرے کا ایک منظر۔چونکہ یہ ٹنل پاکستان اور جاپان کے مشترکہ تعاون سے تعمیر کیا گیا ہے،اسلئے اسکو فرینڈ شپ ٹنل بھی کہا جاتا ہے۔


ٹنل کا اندرونی منظر



ٹنل کے جنوب کی طرف کا ایک نظارہ


کوہاٹ ٹنل سے جیسے ہی جنوب کی طرف جائیں،تو ٹنل ٹول پلازہ نظر آجاتاہے۔



یہ جو اس ویڈیو میں گاڑیوں کی قطار نظر آرہی ہے ،تو یہ تمام گاڑیاں سیکورٹی چیک پوسٹ پر اپنے باری کیلئے کھڑی ہیں۔دراصل یہ گاڑیاں جنوبی اضلاع سے آنے والی گاڑیاں ہیں۔ ٹنل کے شمال و جنوب دونوں کی طرف سخت سیکورٹی چیکنگ ہوتی ہے،تاکہ ٹنل میں کسی بھی قسم کے حادثے سے بچا جا سکے۔



کوہاٹ کے ساتھ متصل ضلع کرک کا علاقہ ہے۔اور انڈس ہائی وے پر کرک کا سب سے پہلا جو بازار آتا ہے تو وہ لاچی بازار ہے۔



ضلع کرک کے خشک لیکن قدرتی وسائل سے مالا مال علاقے
یاد رہے کہ انہی خشک علاقوں میں قدرتی گیس کے بہت بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔جن پر بڑے بڑے پلانٹ تعمیر کئے گئے ہیں۔
لیکن کیا کیجئے حکومت کی روایتی ہٹ دھرمی کا ،کہ ابھی تک کرک کے رہائشی گیس رائلٹی سے محروم ہیں۔جس کے سبب آے روز کبھی ان گیس پلانٹوں پر حملے کئے جاتے ہیں ،اور کبھی احتجاجی مظاہرین سڑک بلاک کردیتے ہیں۔





کرک میں دریافت شدہ قدرتی گیس سے لوگ مستفید ہوتے ہوئے
چونکہ اس علاقے میں چند ہی سی این جی سٹیشن بنے ہیں،اسلئے ڈی آئی خان تک کی گاڑیوں کا بوجھ ان سٹیشنز پر ہوتا ہے۔جس کے سبب یہاں گاڑیوں کی طویل قطاریں آپ دیکھ سکتے ہیں۔


انڈس ہائی وے ایک ایسی شاہراہ ہے ،جس نے ملک کے کئی دوردراز حصوں کو آپس میں مربوط رکھا ہے،اسلئے اس ہائی وئے پر بڑی گاڑیاں بھی دوڑتی نظر آتی ہیں۔


ضلع کرک کے جنوب کی طرف آخری حدود میں ایک مشہور ہوٹل واقع ہے ،جس کا اصل نام تو من وسلویٰ ہوٹل ہے،لیکن چونکہ یہاں بیری کے درخت موجود ہیں،اسلئے عرف عام میں اسکو بیری کا ہوٹل کہا جاتا ہے۔



اگر آپکی گاڑی میں ایندھن کم ہے،تو گھبرائیے نہیں،اس روٹ پر کثرت سے ایسے ڈیزل-پٹرول پمپ موجود ہیں۔


اچھا جی تو بنوں اور انڈس ہائی وے کو باہم مربوط کرنے والی سڑک یعنی لنک روڈ پر پہنچ گئے۔چونکہ ہماری منزل بنوں ہے ،اسلئے یہاں سے ہم انڈس ہائی وے کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔



بنوں میں داخل ہونے سے پہلے بنوں ٹاؤن شپ آتا ہے،اور اس ٹاؤن شپ کے بالکل سامنے اکرم درانی کالج واقع ہے۔اور یہی پر وہ مشہور بنوں جیل واقع ہے،جس پر تحریک طالبان نے حملہ کرکے عدنان رشید سمیت اپنے سینکڑوں ساتھیوں کو رہا کروایا تھا۔

بنوں جیل کی چاردیواری
بنوں جیل کا مین گیٹ
بنوں میں داخل ہونے سے پہلے دریاے کرم پار کرنا پڑتا ہے۔



بنوں کے قدیم شھر کے شروع میں باب دُرانی


ہم چونکہ آپریشن ضرب عضب سے متاثرہ نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے سلسلے میں بنوں آئے تھے،اسلئے وہ ایک الگ بلاگ پوسٹ کا متقاضی ہے،جو کہ یہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
۔اس سلسلے میں ہم نے بنوں میں باقاعدہ چند دن گذارے ،اور ان دنوں میں بعض اہم شخصیات اور فلاحی اداروں کے سربراہوں سے تفصیلی ملاقاتیں کی۔یہ ملاقاتیں خالصتا  نجی حیثیت سے کی گئی۔

بنوں بس آڈے کے قریب سڑک کا ایک منظر

بنوں کے مشہور سوغات میں سے ایک سوہن حلوہ


بنوں سے واپسی پر ہم نے انڈس ہائی وے پر سفر کے بجائے بنوں کوہاٹ کے پرانے روڈ کو ترجیح دی،جس کی حالت بھی کچھ بری نہیں ہے۔
یہ سڑک بھی ضلع کرک میں سے ہو کر گذرتی ہے۔ اور یہاں سڑک کنارے گیس پلانٹ بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔چونکہ شام کا وقت تھا،اسلئے پلانٹ میں ہر طرف روشنیاں جل رہی تھی۔



کوہاٹ پہنچ کر ایک سی این جی سٹیشن پر رُک گئے۔وہاں جب میں پانی پینے کیلئے گاڑی سے اترا تو ٹھنڈے پانی کا ایک عجیب سسٹم نظر آیا۔
عربی مقولہ ہے کہ   لیس الخبر کالمعائنہ
یعنی خبر میں وہ منظر بیان نہیں کیا جا سکتا،جو دیکھنے میں نظر آجاتا ہے۔ اسلئے میں بھی خبر کے بجائے آپ لوگوں کو اس سسٹم کا معائنہ ہی کروا دیتا ہوں۔




کچھ سمجھ میں آیا کہ نہیں!!!

پانی کی پلاسٹک کے ٹینک میں سپلیٹ اے سی کا ایسا سسٹم کیا گیا ہے کہ جس کے سبب پانی ٹھنڈا رہے۔گویا برف سے جان چھوٹ گئی۔

لیجئے ٹنل تک پہنچ گئے۔اور ٹنل کے بعد پھر درہ آدم خیل اور پھر پشاور ۔

کوہاٹ ٹنل کا جنوب کی طرف سے

14 تبصرے:

  1. بہت خوب، نئے علاقوں سے آگاہی ہوئی۔ شکریہ۔
    تاہم جس کام سے آپ گئے تھے اس پر آپ کے لکھے کا انتظار ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. پسندیدگی کا شکریہ سلیم صاحب
      جس کام کیلئے گیا تھا،اسپر لکھا ہے عنوان ہے
      "ہم نے بنوں یوں بھی دیکھا"

      حذف کریں
  2. جوابات
    1. عثمان یوسف صاحب
      بلاگ پر خوش آمدید
      اور پسندیدگی کیلئے بے حد شکریہ

      حذف کریں
  3. بہت خوب، تفصیل با تصویر دیکھ کر آپ کے ساتھ ساتھ میں نےبھی سفر کیا۔ اب آپ کے دوسرے بلاگ پوسٹ کا انتظار رہے گا۔ اس سفر میں مجھے بھی اپنے ان علاقوں کے سفر یاد آگئے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. شکریہ نعیم جان
      دوسری پوسٹ بھی آچکی ہے ۔

      حذف کریں
  4. مجھے سفرنامے پڑھنا بہت پسند ہے۔۔۔۔اور اگر سفرنامہ باتصویر ہو تو پھر تو سفرنامے کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ بہت مزا آیا تصاویر اور ان پر آپ کے تبصرے پڑھ کر۔ان تصاویر سے یہ اندازہ تو آسانی سے لگایا جاسکتا ہے کہ آمد ورفت اور نقل حمل کے ذرائع پر حکومت اور فوج دونوں نے ان علاقوں میں خاص توجہ دی ہے ۔

    مشورہ دینا چاہوں گا کہ تبصرے اگر تصویر کے نیچے ہونے چاہیں تاکہ تصویر دیکھنے کے بعد تبصرہ پڑھا جائے۔ دوسری بات کوہاٹ ٹنل میں آپ کے ڈرائیور نے کھلم کھلا انتہائی سنگین ٹریفک قانون توڑا ہے۔۔۔سڑک کے درمیان دو سفید لکیریں ہوں تو انہیں کراس نہیں کیا جاسکتا۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. خورشید صاحب
      آپ کا مشورہ بسر وچشم
      کوہاٹ ٹنل کے اندر سڑک کے درمیان پلاسٹک پارٹیشن تھی،لیکن ٹی ٹی پی اور فوج کی کشمکش میں وہ پارٹیشن ختم ہوگئی ہے۔

      حذف کریں
  5. واہ جی مزا آگیا۔ میں بنوں کبھی ن ہیں گیا مگر جانے کا ہمیشہ سے شوق رہا۔ آج ورچوئلی گھوم لیا :)

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. عبدالرؤف صاحب
      بلاگ پر خوش آمدید
      ۔آپ کو پسند آگیا تو ہمیں صلہ مل گیا۔

      حذف کریں
  6. آپ کے ساتھ سیر کرنے کا مزا آیا۔
    ویسے یہ اے سی کے آؤٹر کے ساتھ چلر بنانے والے یہاں کافی لوگ ہیں۔ جو کنڈنسر کو ڈائریکٹ پانی میں رکھ دیتے ہیں جس سے پانی کا درجہ حرارت تیزی سے اور بہت زیادہ نیچے آ جاتا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. سفرنامہ کی پسندیدگی کاشکریہ
      شائد یہ نئی بگاڑ چل نکلی ہے ان لوگوں کے ہاں جو پانی کے بڑے ذخیرے کو ٹھنڈا رکھنا چاہ رہے ہوں

      حذف کریں
  7. ٹھنڈے پانی کے سسٹم نے مبہوت کر دیا ہے :)

    جواب دیںحذف کریں

محترم بلاگ ریڈر صاحب
بلاگ پر خوش آمدید
ہمیں اپنے خیالات سے مستفید ہونے کا موقع دیجئے۔لھذا اس تحریر کے بارے میں اپنی قابل قدر رائے ابھی تبصرے کی شکل میں پیش کریں۔
آپ کے بیش قیمت خیالات کو اپنے بلاگ پر سجانے میں مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے۔

۔ شکریہ

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں
UA-46743640-1