تازہ ترین
کام جاری ہے...
ہفتہ، 9 نومبر، 2013

قرآنی باغ

ہفتہ, نومبر 09, 2013
چند مہینے قبل خیبر پختون خواہ کے ایک مقامی روزنامے میں قرانی باغ کے بارے میں جامعہ پشاور کے بوٹینکل ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کا ایک انٹرویو شائع ہوا تھا۔جس میں موصوف نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اضاخیل کے مقام پر بوٹینیکل گارڈن میں انہوں نے قرانی باغ کے نام سے ایک باغیچہ بنایا ہے،جس میں قران مجید میں ذکر شدہ درختوں کو ہم نے جمع کیا ہے۔

چنانچہ ہمیں بھی شوق ہوا کہ کیوں نا اس باغ کی سیر کی جائے، اور ساتھ میں اس کی تصاویر بھی کھینچی جائیں ۔
لیکن ہوتا یہ کہ کوئی نا کوئی مسئلہ بن جاتا اور سیر کا منصوبہ ختم کرنا پڑتا۔چنانچہ کئی مہینوں سے یہ خواہش ہم دل میں لئے پھرتے رہے۔

آخر کار ایک موقع ایسا آیا کہ جس میں باغ کی سیر ممکن ہوسکی۔چنانچہ اپنے عام کیمرے کو بھی رفیق سیر بنایا تاکہ کچھ یادیں ہم محفوظ کرسکیں۔

باغ کے پاس جب ہم پہنچے تو مین گیٹ بند تھا ،لیکن ایک طرف کو بڑا گیٹ کھلا تھا، جہاں سے لوگ باغ میں جارہے تھے۔ہم  بھی گاڑی کھڑی کرکے مین راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے سے باغ میں داخل ہوئے۔

جس راستے سے ہم داخل ہوئے تو اسکے ایک طرف کھلا میدان سا تھا اور دوسری طرف گھنے درخت۔ساتھ میں ایک بورڈ بھی لگا ہوا تھا، جس سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ اس جنگل کو جامعہ پشاور والوں نے ہی اگایا ہے۔
یہ لیجئے اسکی ایک جھلک


اور ساتھ میں لگا بورڈ


باغ کی طرف جاتی ہوئی کچی پکڈنڈی ،جس کے ذریعے ہم باغ کے وسط تک پہنچ سکے۔


باغ میں داخل ہونے سے پہلےپک ڈنڈی کے ایک طرف خوبصورت ماڈل اور دوسری طرف مصنوعی شیر(جن کی آج کل ہمارے ملک میں بہتات ہے۔)



لیجئے بوٹینیکل گارڈن میں ہمارے مطلوبہ باغیچے (قرانی باغ) تک پہنچ گئے۔اب یہاں ہر ایک پودے کے ساتھ ایک بورڈ بھی لگا ہوا ہے،جس پر اس پودے کے نام ، سائینسی نام اور انگریزی نام مع جس ایت میں اسکا ذکر آیا ہے، یہ سب لکھا ہوا ہے۔

یہ رہا باغ کا نظارہ 






1) کھجور 



2) کیلا 


3) انگور



4)زقوم


5) انار


6) زیتون


7)ریحان



8) انجیر



9) مسواک



10) لہسن 
لہسن کا ایک ننھا پودا
لھسن کی اوپری چھلکا

11) کدو
مجھے سخت افسوس اسوقت ہوا جب میں دوبارہ گھوم پھر کر یہاں پہنچا تو دیکھا کہ کدو کا یہ ننھا پودا بھی کسی نے اُکھاڑ پھینکا تھا،غالبا جب میں یہاں سے جا رہا تھا تو یہی ایک فیملی بیٹھی تھی، جن کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ بھی تھا۔مجھے یہی لگتا ہے کہ بچے کی ماں باپ نے لاپروائی برتی اور بچے نے یہ پودا اکھاڑ پھینکا۔

12) ادرک
چونکہ ادرک ایک جڑ ہوتی ہے ،اسلئے شائد اسکی کیاری خالی پڑی تھی۔

13) ترف،ترفا

14) جو
جو کے ننھے ننھے پودے

15) پیاز

16) گندم

باقی پودے یہاں دستیاب نہیں تھے،اسلئے انکی تصاویر بھی ہم نہ کھینچ سکے۔
باغیچے کی ایک تصویر

باغ میں گھومتے ہوئے چند دوسرے پودے بھی سامنے آئے ،جن کی تصاویر ذیل میں پیش کئ جاتی ہیں۔
(بوتل برش)

(بیربیری)

(بید مجنون)

(ایک درخت پرخوبصورتی سے لکھا گیا لفظ اللہ)

(شیشم)

گارڈن میں ایک چھوٹا سا چڑیاگھر

گارڈن میں ایک چھوٹی سی نرسری بھی قائم ہے۔

یہ رہا جنگلی زیتون

مورپنکھ

(زرد گرانٹا)

(موتیا)

(زقوم)

 نرسری میں خوشبو بکھیرنے والا گلاب کا پھول 

دورنگی

یہ رہا لیمن گراس 


سونف کا پودا

ایک باغیچے کے درمیان یہ خوبصورت پودا

چلتے چلتے ہم گارڈن کیفیٹیریا پہنچ گئے۔لیکن یہ کیا !
کیفیٹیریا تو بند تھا ،چلو یہاں بھی اپنا کام شروع ۔۔۔
ہیییییں!!!
یہ لکھیر دیوار پر کیوں؟
اچھا اچھا یہ تو لکھا ہوا کہ 2010 میں جب طوفانی سیلاب آیا ہوا تھا تو پانی 10 فٹ یعنی یہاں تک چڑھا تھا۔گویا بوٹینیکل گارڈن بھی کچھ مدت کیلئے جھیل کے عھدے پر فائز رہ چکا ہے۔

لوجی سائینس واقعی ترقی کر گئی ہے ،کیونکہ مرغابیوں کے پیٹ سے پودے نکلنے لگ گئے ،یقین نہیں آتا تو خود ہی دیکھ لیجئے

چلتے ہیں مین گیٹ کی طرف،لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے ایک خشک فوارے کا نظارہ

شکوہ بزبان بطخاں۔۔۔
ہم تو مائل بہ سوئیمنگ ہیں کوئی پانی ہی نہیں۔

میری بھی تصویر کھینچو نا،میں ادھر اکیلا ہی ہوں۔۔۔۔۔۔
قریب سے یہ آواز آئی تو دیکھا کہ ایک ننھا پودا گملے میں پوز بنائے تیار تھا۔
ہم نے بھی دیر نہیں کی اور بس کھینچ لی تصویر ۔
ننھے ہیں نا۔۔۔۔۔۔ناز نخرے تو کریں گے

مین گیٹ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا کہ کئی خوبصورت جملوں پر مشتمل بورڈز لگے ہیں۔ملاحظہ کیجئے گا۔سمجھ نہ آئے تو انگلش کی مس سے پوچھ لینا،اگر اپنی نہیں تو بچوں والی سے بھی استفادہ ممکن ہے۔اچھی طرح سمجھا دے گی۔


لیجئے مین گیٹ تک پہنچ گئے

چمن کے درمیان ایک نمونہ


گارڈن میں کھیلتے کودتے ہُد ہُد

یارا اتنے بڑے منصوبے میں کوئی اکیڈیمک بلاک نہیں ؟

کیوں نہیں ،باغ کا اکیڈیمک بلاک تو موجود ہے لیکن آج اتوار ہے نا،اسلئے چھٹی پر ہیں سب۔
آو تمہیں دِکھاؤں انکی بلڈنگ، یہ رہی

اچھا پیارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کس کس نے گرین ہاؤس نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔
سب نے نہیں دیکھا،چلو میں دکھا دیتا ہوں گرین ہاؤس ،یہ لیجئے 

کیا کہا، باغ میں تالاب بھی تھا،اچھاااااااااااا
آو دیکھتے ہیں کہ ابھی بھی ہے یا قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

ارے یہ تو ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔گویا کسی زمانے میں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شائد سکندر اعظم کے زمانے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں 

اچھا تو پھر مغلوں کے زمانے کا ہوگا۔

اور یہ کیا
انہوں نے تو ایسے لکھا ہے جیسے لوگ تیار بیٹھے ہیں نہانے کیلئے

لوجی اس تالاب میں مچھلیاں بھی ہیں ۔ہیییں  کون کونسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خود ہی دیکھئے

جس نے یہاں بیٹھنا ہے ،بیٹھ جائے 

ہم تو چلے گھر،بلڈنگ کے پاس ہماری گاڑی کھڑی ہے




17 تبصرے:

  1. زبردست
    بہت معلوماتی سفر رہا
    اور ایک باغ میں بھی بناوں گا اب انشاءاللہ

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. گمنام صاحب بلاگ پر خوش آمدید۔ :)
      آپ کا پیارا نام ہمیں معلوم ہوجاتا تو خوشی دوگنی ہوتی۔ :))

      حذف کریں
    2. خیر اتنے بھی گمنام نہیں وہ تو بس تبصرہ کرنے کا سب سے آسان طریقہ تھا آزما لیا
      https://www.facebook.com/saadmalik4

      حذف کریں
    3. ہاہاہاہا :-) :-) :-) :-)
      سعد بھائی یہ آپ تھے پردے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلیں جی ہم چائے پِلادیتے یں۔ (c)

      حذف کریں
  2. وہ جناب کیا خوب سیر کروائی ہے
    پھر کبھی جانا ہو تے
    سانوں وی نال لے جاویں بابے سوہنی گڈی والیا

    جواب دیںحذف کریں
  3. وہ کہتے ہیں ناں کہ دل خون کے آنسو رونے لگا یہ سب دیکھ کر۔۔۔ بھائی ، کچھ سال پہلے جب پشاور یونیورسٹی میں موجود بوٹانیکل گارڈن کے معمر درختوں کو چند مفاد پرست قتل کررہے تھے تو اُس وقت کے مخلص اساتذہ اور طلباء نے کافی احتجاج کیا تھا اور اُن کو یہ دلاسہ دیا گیا تھا کہ اس کی جگہ ازاخیل میں بوٹانیکل گارڈن اورقرآنی گارڈن وغیرہ وغیرہ بنا کر دیا جائے گا، اب یہ صورتحال دیکھ کر تو رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ یہ بوٹانیکل گارڈن کم اور بھوتوں کا قبرستان زیادہ لگ رہا ہے۔ بہت افسوس ہوا۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. نعیم بھائی بلاگ پر خوش آمدید :)
      سچ پوچھیں تو جتنی میری توقعات تھی، قرانی باغ کے بارے میں،یا میڈیکل باغ کے بارے میں، تو یہاں اس حالت کو دیکھ کر دل ٹوٹ سا گیا تھا۔ (p)

      میراخیال تھا کہ یہاں کافی محنت کی گئی ہوگی ،ان باغیچوں کے ساتھ ۔لیکن یہ تو عام نارمل پارکوں کی طرح کا ایک پارک تھا صرف۔

      بلکہ اس سے تو باغ ناران کئی درجے خوبصورت ہے۔ (f)
      تبصرہ کرنے کا شکریہ

      حذف کریں
  4. بورڈز پر قرانی حوالوں کے ساتھ پودوں کے نام اور انکی تفصیلات نے بہت تسکین دی کہ ابھی "یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی" لیکن آخر تک آتے آتے اس باغ کی تنہائی محسوس کر کے دل اداس سا ہو گیا جس کا جناب Naeemullah Khan اور
    صاحبِ تحریر نے بھی اظہار کیا۔ باقی آپ کی کاوش بہت عمدہ ہے۔ اسی طرح مثبت انداز میں قلم اور کیمرے سے سوچ کے رنگ بکھیرتے رہیں ۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. نورین صاحبہ تحریر کی پسندیدگی اور حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ
      میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ مثبت انداز اختیار کروں ،لیکن بعض اوقات لوگ مجبور کرجاتے ہیں کچھ تلخی دِکھانے کو۔

      بہرحال کوشش کرتے رہیں گے کہ مثبت انداز میں قلم اور کیمرے سے سوچ کے رنگ بکھیرتے رہیں ۔ :)

      حذف کریں
  5. اس باغ کا حدود اربعہ بھی بتا دیں تاکہ جو پشاور کے باہر سے آنے والے ہیں کبھی موقع ملے تو ذرا دیر کو یہاں آ سکیں۔ ویسے یہ خواب سی بات ہے آج کل تو پشاور جانا صرف خریداری کے لالچ میں ہی ہوتا ہے اور دہشت گردی کے خوف اور راولپنڈی اسلام آباد میں کھلے بہترین شاپنگ مال اور باڑہ مارکیٹ کے بعد تو شاید اب صرف الیکڑانک کے سامان کی کشش ہی رہ گئی ہے اور یہ بت بھی بس آخری دموں پر ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. قابل قدر نورین صاحبہ حدود اربعہ یہ ہیں کہ جب آپ جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد سے پشاور جا رہے ہوں ،تو نوشہرہ سے گذرنے کے بعد امان گڑھ کا علاقہ آتاہے۔پھر امان گڑھ کے بعد اضاخیل نامی علاقہ آتا ہے۔یہاں جامعہ پشاور والوں نے ایک بہت بڑھے حصہ زمین پر بوٹانیکل گارڈن بنایا ہے۔
      اسلام آباد کی طرف سے آتے ہوئے گارڈن آپ کے بائیں طرف سڑک کنارے واقع ہے۔

      میں بھی اس بات سے متفق ہوں کہ پشاور بھی آنے والے مہمانان گرامی کیلئے اپب ماحول کوئی خاص مزیدار نہیں رہا۔جسکے کئی عوامل ہیں ،لیکن سب سے بڑی رکاوٹ دھشتگردی ہے۔ ;(

      حذف کریں
    2. نورین صاحبہ، اب بھی بہت ساری دیکھنے کی جگہیں ہیں یہاں مگر افسوس کے نا اہل حکمرانوں نے اپنی قوت کا فضول کاموں میں ضائع کیا ورنہ ان حالات سے نمٹنا ایک بھرپور حکومت کے لئے ناممکن نہیں۔ پشاور میں آج بھی قصہ خوانی بازار میں گہماگہمی ہوتی، مسجد مہابت خان کی میناریں آج بھی آذانوں سے گونجتی ہیں، بچے کچے پارکس میں آج بھی پھول کھلتے ہیں، سیٹھی ہاؤس کی شاندار تاریخ آج بھی زندہ ہے، اندرون شہر کی تنگ و تاریک گلیاں اب بھی اپنا وقت تاریخ کے جھروکوں میں بیان کرتی نظر آتی ہیں اور اسلامیہ کالج کی عمارت آج بھی اپنی عظمت کی گواہ ہے۔ بس ضرورت تھوڑے سے امن کی ہے۔

      حذف کریں
  6. بہت زبردست، جزاک اللہ، جزاک الخیر۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. بہت خوب ان تمام درختوں اور پھولوں کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا ہے ۔ آپ نے جب یہ پوسٹ شائع کی تو اس وقت میرے سلو نیٹ کنکشن کی وجہ سے فوٹو ڈاونلوڈ نہیں ہو پا رہے تھے اور پھر یہ پوسٹ یاداشت سے اتر گئی ۔ واللہ بہت عمدہ

    جواب دیںحذف کریں
  8. زبردست مجھے تو بہت مزہ آیا، اور قرآن کے پودوں کے بارے میں بھی پتا لگا۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں

محترم بلاگ ریڈر صاحب
بلاگ پر خوش آمدید
ہمیں اپنے خیالات سے مستفید ہونے کا موقع دیجئے۔لھذا اس تحریر کے بارے میں اپنی قابل قدر رائے ابھی تبصرے کی شکل میں پیش کریں۔
آپ کے بیش قیمت خیالات کو اپنے بلاگ پر سجانے میں مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے۔

۔ شکریہ

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں
UA-46743640-1