تازہ ترین
کام جاری ہے...
منگل، 5 نومبر، 2013

ڈاکٹروں کے شر

منگل, نومبر 05, 2013
آج مصطفیٰ ملک صاحب کا بلاگ پوسٹ (مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے) پڑھا، جس میں  لاہور کے ایک سینئر  ڈاکٹر نے  ناتجربہ کاری کے سبب انجینئرنگ کی ایک طالبہ کو عمر بھر کیلئے معذور کردیا۔
تو مجھے بھی اپنی زندگی میں بیتے ہوئے اس قسم کے چند واقعات یاد آگئے، کہ جس میں ڈاکٹر سراسر حیوانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے  مریض کو اپنی فیس کی خاطر پھنسانے کی کوشش  میں ہوتا تھا۔
تو جناب ہوا یہ کہ میں ایک  دن گھر کے قریب موجود تھا کہ میرےموبائل پر نامعلوم نمبر سے فون آیا۔ میں نے  جب فون  ریسیؤ کیا تو دوسری طرف سے میرا نام لے کر مجھے پکارا گیا۔ اب میں حیران کہ  یہ کون بندہ ہے ،جسکا نمبر بھی انجان ہے اور مجھے جانتا بھی ہے۔

خیر میں نے  اس کو اپنا تعارف کروانے کا کہا، تو انہوں نے میرے ایک دوست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں مشکل میں ہوں ،اور آپکے فلاں دوست نے مجھے آپ سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔

میں نے  اس سے پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے اور میں کیا خدمت کرسکتا ہوں،تو انہوں نے بتایا کہ ہم پشاور کے مشہور  لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں موجود ہیں ،اور ہمارے ساتھ ایک چھوٹی بچی مریضہ ہے۔جس کے سر میں ایک چھوٹی سی رسولی ہے جو کہ اپریشن سے ہٹائی جاسکتی ہے۔اب  متعلقہ وارڈ کے ڈاکٹر نے معائنہ کے بعد ہمیں وارڈ میں تو داخل کردیا  ہے لیکن   اپریشن کی تاریخ 11 ماہ  بعد کی دی ہے۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ نا تو وہ مریضہ کو اس حال میں گھر لے جاسکتے تھے اور نا ہی 11 مہینے ہسپتال میں گزار سکتے تھے۔چنانچہ انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ اگر آپ اس سلسلے میں ہماری مدد کرسکتے ہیں تو ہمارا یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔

میں نے انکو دلاسہ دیا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ،میں کچھ کرتا ہوں۔چنانچہ اسی دن شام کو ایک ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی جو کہ اسی لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ٹریننگ حاصل کر رہے تھے۔ میں نے تمام معاملہ انکے سامنے رکھا تو انہوں نے  عجیب جواب دیا ۔

ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ دراصل اس ہسپتال میں ڈیوٹی کرنے والے اکثر ڈاکٹروں نے ایک عجیب سی روش اپنائی ہوئی ہے  کہ جب تک مریض انکے ذاتی کلینک میں نہ جائے اور انکو اپنی مقررہ فیس ادا نہ کرے ،تو  اس وقت تک مریض کا علاج کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔
پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ مریض کے لواحقین کو بتاؤ کہ جس ڈاکٹر نے انکو ہسپتال میں داخل کرایا ہے، اسکے کلینک کا پتہ کرکے مغرب کو دوبارہ اسکے ہاں مریض کو چیک اپ کیلئے لے جائے۔

جب ایک بار ڈاکٹر پرائیوٹ کلینک میں مریض کو دیکھ لے تو بس پھر دیکھو کہ اسکا اپریشن ایک ہفتہ کے اندر اندر ہوتا ہے کہ نہیں۔
گویا سارا ڈرامہ صرف اس فیس کیلئے رچایا گیا تھا۔

دوسرا واقعہ یہ کہ میری چچا کی چھوٹی بیٹی کے پیٹ میں درد  اُٹھا، اور ایسا درد کہ  بچی پر دن رات کا آرام حرام ہوگیا۔بچی تھی کہ درد سے کراہنے لگی۔

چنانچہ فورا ہی اسکو قریبی ہسپتال لے جایا گیا، تو وہاں کے ڈاکٹر نے فورا اپینڈکس کا  کہہ کر بچی کے والدین کو بچی کے اپریشن پر تیار کرنا شروع کیا۔
لیکن بچی کے والدین نہ مانے اور قریبی دوسرے ہسپتال میں لے گئے، وہاں کے ڈاکٹر نے بھی اپینڈکس کا کہہ کر بچی کو اپریشن کیلئے داخل کروانے کا کہہ دیا۔لیکن بچی کے والدین کسی صورت نہیں مانے ،اور انہوں نے  بچی کو پشاور  لے جانے کا ارادہ کیا۔

یہاں جب ایک جاننے والے ڈاکٹر نے بچی کا معائنہ کیا تو گیس ٹربل کی چند گولیاں اور چند ایک دیگر دوائیاں بچی کیلئے تجویز کردی۔چنانچہ جب بچی نے دوائیاں لینا شروع کردی تو وہ دن اور آج کا دن کہ بچی  کو دوبارہ پیٹ کے درد کی شکائت نہ ہوئی۔

اسی طرح میرے ماموں کو ایک دن  دل کی جانب سخت درد محسوس   ہوا۔ چنانچہ فورا پشاور پہنچ کر انہوں نے ایک بڑے ڈاکٹر کا نمبر لیا اور ان سے معائنہ کروایا ،تو انہوں نے کہا کہ آپکی حالت خطرناک ہے،فورا ہارٹ سرجری کرنی پڑے گی۔وہ بندہ بھی ڈاکٹر کی باتوں میں آکر تیار ہوا،اور بھائی کو ہسپتال میں خدمت کیلئے بُلا لیا۔
اسکا بھائی جب آیا تو ضد کرنے لگا کہ ،دوسرے ڈاکٹر سے بھی معائنہ کروانا ہے۔چنانچہ جب دوسر ے ڈاکٹر کے پاس گئے تو انہوں نے کہا کہ سرجری کی کوئی ضرورت نہیں ،بس انہیں دوائیوں کے ساتھ مسئلہ حل ہوجائے گا۔


 خود میرے ساتھ ابھی  چند ہفتے قبل ایک واقعہ ہوا ۔وہ اسطرح کہ اس عید الاضحیٰ کو میں جب گنڈیریاں چوس رہا تھا تو میرا ایک RCTکیا ہوا دانٹ جو کہ صرف U کی شکل میں تھا ،کا اندرونی  سائیڈ ٹوٹ گیا۔

میں گیا ایک ڈینٹل ہسپتال ،اور انکو میں نے سمجھایا کہ میرے دانت کا اندرونی طرف ٹوٹ گیا ہے ،اسکا علاج کس طرح ممکن ہے؟
سینئر ڈاکٹر نے دیکھ کر کہا کہ اسکی ری فلنگ ہوگی۔
میں نے کہا کہ جناب والا میرے دانت کا ایک سائیڈ ٹوٹ چکا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے اور ہم ہی بہتر سمجھتے ہیں۔بس آپ مشورے نہ دیں۔

میں نے کہا کہ چلو جی دیکھتے ہیں کہ آپ کتنے پانی میں ہیں۔چنانچہ انہوں نے پرانی فلنگ  ہٹا کر نئی فلنگ ڈال دی لیکن  وہی میری والی بات کہ دانت کا ایک طرف  جب ٹوٹا تھا، تو خاک فلنگ ہوتی۔

چنانچہ انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ جناب ہم نے تو بھرپور محنت کی لیکن دانٹ کا ایک سائیڈ ٹوٹ گیا ہے۔ اب مجھے غصہ بھی آنے لگا کہ بدبختو ! یہ طرف پہلے سے ہی ٹوٹا ہوا تھا لیکن تم لوگ کسی کی سُن ہی نہیں رہے تھے۔

پھر انہوں نے کہا کہ اس دانت کو نکالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

اب ہوا یہ تھا کہ جب بچپن میں ہمارے سامنے کے دانت کمزور ہوجاتے اور گرنے کے قریب ہوتے تو ہم انکو اکھاڑ کر کھینچ لیتے اور دانت نکل آتا۔
میرا خیال تو یہی تھا کہ اگرچہ یہ سائیڈ دانت ہےلیکن  جلدی نکل جائے گا۔
لیکن اُف اللہ ۔۔۔کیسے خطرناک ہوتا ہےRCT کیا ہوا دانت نکالنا۔دو تین بار تو میرا تالو زخمی ہوتے ہوتے بچ گیا ۔
خیر انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ RCT دانت ہے اور ٹکڑوں میں ہی نکلے گا۔لھذا وہی ہوالیکن بعد میں جو تکلیف ملی ،تو میں نے دوبارہ دانت نکالنے سے توبہ کی۔

اچھا جب میں گھر آیا تو ہمارے ایک رشتہ دار جو  کہ خود بھی دوسرے ضلع میں ڈینٹل ڈاکٹر ہیں، وہ بھی آئے ہوئے تھے۔

میں نے جب ان کو صورت حال بیان کی تو انہوں نے کہا کہ جناب اس دانت پر بیس بنا کر کراؤن کیا جاسکتا تھا۔ دانت نکلوانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔بس جب یہ جملہ امی نے سُنا تو جی بھر کر ہسپتال والے ڈاکٹر کو بد دعائیں دی، کہ متبادل علاج موجود ہوتے ہوئے بھی اس نے خطرے والا طریقہ کیوں اختیار کیا۔

دو تین ایسی کیسوں کا مجھے علم ہے کہ بندے نے دانت نکلوایا ،اور  پھر یا تو اسکا خون نہیں رُک سکا اور موت کی منہ میں چلا گیا، یا  گندھے اوزار استعمال کرنے کے سبب بندے کو کینسر ہوگیا۔

ایبٹ آباد کے مشہور میڈیکل درسگاہ کے ایک ڈینٹل طالب علم نے بتایا کہ جب وہ ہسپتال میں  ایک بڑے ڈینٹل ڈاکٹر کے ساتھ کام کر رہے تھے،تو اس بڑے ڈاکٹر نے اپنے شاگردوں کو پہلے ہی سے کہا ہوا تھا کہ جب بھی کوئی مریض دانتوں کے علاج کیلئے آئے تو اسکے علاج معالجے میں جان مت کھپاؤ،فورا ہی اسکا دانت نکالا کرو، چاہئے وہ بغیر نکالے بھی قابل علاج ہو۔

تو اس طالب علم نے مجھے بتایا کہ جب بھی ہمارے پاس ایسا مریض آتا کہ ہم سمجھتے کہ اسکو بڑے ڈاکٹر کے پاس لے جانا لازمی ہے،تو ہم مریض کو سائیڈ پر کرکے چھپکے سے سمجھا دیتے کہ باہر کسی اچھے معالج سے دوبارہ اپنے دانت کا چیک اپ کراؤ۔

پشاور کے ایک مشہور میٹرنٹی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر اس حوالے سے مشہور ہے کہ وہ چاہئے بچہ کی پیدائش نارمل ہی کیوں نہ ہو، وہ آپکے سامنے ایسی صورت حال پیش کرے گا کہ مریض گھبرا کر فورا بڑے اپریشن کیلئے راضی ہوجائے۔

اچھا اب صرف یہ نہیں کہ  یہ ڈاکٹر مریض کا اپریشن کرے،بلکہ اپریشن کے بعد مردہ بچے کے ملنے کے امکان زیادہ ہوتا ہے۔
جس کے بارے میں مخلص ڈاکٹر حضرات دبے الفاظ میں احتجاج کرتے رہے ہیں،اور باقاعدہ چھوٹے ڈاکٹر آپکو بتاتے ہیں کہ خدارا اپنے مریض کا علاج کسی اور سے کرواؤ ،لیکن اس کی باتوں میں نہ آنا۔(یہ واقعہ ایسے مریض نے سُنایا ہے کہ جس پر خود گذری ہے)

اسی پشاور کی ایک دوسرے میٹرنٹی ہسپتال میں ایک لیڈی ڈاکٹر ہے،جو سرکاری ہسپتال میں جب ڈیوٹی پر ہوتی ہے تو بالکل بھی مریضوں کی پروا نہیں کرتی،لوگ منتظر ہوتے ہیں اور یہ اِدھر اُدھر میں ٹائم پاسی کرتی ہے۔

لیکن اپنے پرائیویٹ ہسپتال میں شدید موسمی حالات میں بھی حاضر رہتی ہے،اور جب مریض اسکے پاس آتا ہے تو یہ مریض کو اس درجے ڈرا دیتی ہے کہ اگر ابھی ابھی اپریشن نہ کیا تو بس پھر خیر نہیں۔مریض جب دوسرے ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے  ،تو اس میں کوئی تشویش اور ایمرجنسی والی بات نہیں ہوتی


ان ساری باتوں سے غرض یہ ہے کہ  آج کل کے ڈاکٹر بالکل ویسی ہی حرکات کر رہے ہیں جس طرح معاشرے کے دوسرےنا اہل لوگ کرتے ہیں۔ ہرکوئی آپکی زندگی تباہ کرنے پر تُلا ہوا ہے۔لھذاکبھی بھی ڈاکٹر کی ڈاکٹری پر آنکھیں بند کرکے اعتماد نہیں کرنا۔

جب بھی ایسی کوئی مشکل صورت حال سامنے آئے تو کوشش یہی کرنی چاہئے کہ  تین چار ڈاکٹروں  سے معائنہ کروایا جائے۔ اگر کوئی ڈاکٹر کسی سیریس قدم اُٹھانے کیلئے ضد کریں تو ڈھٹ کر اسکے منہ پر جواب دینا چاہئے۔ یہ صرف آپکی جیب پر ہاتھ صاف کرنے کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں،انکو مریض کی صحت یابی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

ان ڈاکٹر حضرات سے معذرت ،جو بری عادتوں کے مالک نہیں لیکن  محتاط رہنا ہر کسی کا حق ہے۔ اور اس پر کسی کو بھی خفاء نہیں ہونا چاہئے۔ 

16 تبصرے:

  1. منصور بھائی یہاں ہر دوسرے بندے کے ساتھ یہی ہو رہا ہے ، ظلم کی انتہا ہے ، کوئی پوچھنے والا نہیں ، کسی کو فکر نہیں کہ آخر ایک دن اللہ کے ھضور بھی پیش ہونا ہے ۔ بس ہدائت ہی کی دعا ہے جو ہم کر سکتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  2. ارے صآحب ادھر اوے کا آوا ہی بگڑا ہوا، کس کس محکمہ کو روئیں،
    بس ایک ہی لٹ ہے سب کی کہ پیسے پیسے پیسے، لے لو لے لو، نہ حرام کی پرواہ نہ کوئی شرم

    جواب دیںحذف کریں
  3. آپ کو کس نے کہا تھا مشورہ دینے کو
    مریض مریض ہوتا ہے اور ڈاکٹر ڈاکٹر :)

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. وہی نا کہ بعد میں وضاحتیں پیش کر رہے تھے۔ :))

      حذف کریں
  4. آگاہی کا بُہت بُہت شُکریہ : یہ بُہت فائدہ مند ہے ۔۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. پسندیدگی کا شکریہ ایم ڈی نور صاحب :)

      حذف کریں
  5. یار صحیح بات ہے۔۔۔ ڈاکٹر بالکل ہی کمینے ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔ چند دانے اچھے ہیں، باقی سب الو کے کان۔۔۔ جس طرح عزت بندے کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے، اسی طرح صحت بھی اپنے ہاتھ میں ہے، کیونکہ ڈاکٹر پر آنکھیں بند کر کے اعتبار تو کیا نہیں جا سکتا۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. نعیم اکرم صاحب خوش آمدید :)
      بالکل درست فرمایا ۔بندہ خود احتیاط کرے تو شائد کئی مسائل خود بخود ختم ہوجائیں

      حذف کریں
  6. ایہہ جگ مِٹھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تے
    اگلا کس ڈِھٹا-----------

    مطلب یہ دنیا میٹھی ہو بس، اگلی کسی نے دیکھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر بھی اگر ہم معاشرے کے سارے ناسوروں کا ملبہ حکومت وقت اور سسٹم پر ڈال دیں گے تو ہم سے زیادہ بیواقوف کوئی نہیں۔۔

    یقینی طور پر جب تک ہم خود نہیں سدھریں گے تب تک کچھ ٹھیک نہیں ہونے والا۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. اللہ پاک ہم سب کو بیماریوں اور آفتوں سے بچائے رکھے تاکہ ہم ان کے معالجین کے شر سے بچے رہیں۔ آپ نے آگہی دیتا ایک خوبصورت مضمون لکھا ہے، شکریہ قبول فرمائیں۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. حاجی صاحب حج مبارک ہو آپکو ۔
      اتنی محبت سے شکریہ ادا کیا ہے تو قبول کیسے نہیں کریں ہے۔ (f)
      قبول ہے ،قبول ہے

      ویسے یہ جملہ تو پہلے بھی کہیں کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ x-)

      حذف کریں
  8. آپ لوگ تو بال کی کھال اُتارنے اور بال کو کھال پہنانے میں ملکہ رکھتے

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. محمد زین صاحب بلاگ پر خوش آمدید :)
      آپکو یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی۔
      ہم یہاں بال کی کھال نہیں بلکہ نقاب الٹانے کی کوشش میں ہیں

      حذف کریں
  9. ڈاکٹروں کی لاپرواہی اور لالچ اپنی جگہ لیکن صحت کے حوالے سے ہماری لاپرواہی بھی
    ہے - مرض کے خود بخود ختم ہونے کا انتظارکرتے ہیں جب یہ نہ ہواور شدت اختیار کرجائے تو ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں - ویسے اللہ کا شکر ہے میرا سابقہ نہیں پڑا کسی بُرے ڈاکٹر سے

    جواب دیںحذف کریں
  10. میرے والد صاحب تو ڈاکٹروں کی تعریف چھرے مار مخلوق کہہ کر کرتے ہیں۔ اپنے تئیں مسیحا بنے ہوئے یہ لوگ ایسے ایسے طریقے سے کھال اتارتے ہیں ہے کہ بندہ کچھ کر نہیں پاتا اور اس کام کو یہ لوگ اپنا حق سمجھ کے کرتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں

محترم بلاگ ریڈر صاحب
بلاگ پر خوش آمدید
ہمیں اپنے خیالات سے مستفید ہونے کا موقع دیجئے۔لھذا اس تحریر کے بارے میں اپنی قابل قدر رائے ابھی تبصرے کی شکل میں پیش کریں۔
آپ کے بیش قیمت خیالات کو اپنے بلاگ پر سجانے میں مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے۔

۔ شکریہ

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں
UA-46743640-1