تازہ ترین
کام جاری ہے...
منگل, اگست 27, 2013

ٹور ڈی طورخم

منگل, اگست 27, 2013

دوسرا عنوان : افغان ٹرانسپورٹرز کے مسائل

ایک بلاگر کا سب سے بڑا یہی کام ہوتا ہے کہ جو حالات وہ دیکھے یا جن حالات سے گذرے ،یا جن مسائل کا سامنا کرئے ،بس اسکو تحریر میں لائے۔

رمضان میں ٹرانسپورٹ یونین کی طرف سے رابطہ کیا گیا کہ ایک ٹیم تیار ہے ،طورخم(پاک افغان بارڈر) تک جانے کیلئے تاکہ ہمارے مسائل پر روشنی ڈال سکے۔لھذا آپ سے بھی استدعاء ہے کہ ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں۔

دراصل انکے پاس کورٹ آرڈر بھی موجود تھا کہ ان سے کسی قسم کا ٹیکس وصول نہ کیا جائے ،کہ انکی لوڈنگ اَن لوڈنگ کراچی یا لاہور سے ہوتی ہے۔لیکن پھر بھی کسٹم ،ایکسائز، ملیشیاء ،لیوی، موٹر وئے پولیس ،ٹریفک پولیس ،عام پولیس،خاصہ دار فورس اور پولیٹیکلایجنٹ کا عملہ ہر گاڑی سے کل ملا کرایک پیرے(ٹرپ) میں تقریبا 20-30 ہزار روپے تک ظالمانہ رشوت لیتے ہیں۔
نہ دینے پر ڈرائیوروں کو غلیظ گالیاں دی جاتی ہیں،عدالت کو گالیاں دی جاتی ہیں۔بلکہ خیبر ایجنسی میں تو پولیٹیکل ایجنٹ کا ذیلی عملہ کسی عدالت کو جانتا تک نہیں۔کلاشن کوف انکے ہاتھ میں ہوتی ہے،اور رشوت دینے میں معمولی تاخیر پر ڈرائیوروں کو بے عزت کیاجاتا ہے،انکی گاڑی کو نقصان پہنچایا جاتا ہے،ٹرکوں کے شیشے توڑے جاتے ہیں۔

اگر کوئی یہ کہے کہ جناب یہ کیوں نیٹو کا سامان لے جاتے ہیں ،تو انکے علم میں یہ بات لاؤنگا کہ یہ نیٹو سپلائی والے نہیں بلکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیاں ہوتی ہیں۔جس میں افغان تاجر پاکستان سے سامان لے جاتے ہیں۔گویا انکے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنے کا مطلب پاکستانی مارکیٹ کا راستہ روکنا ہے۔جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ افغان تاجر بد ظن ہوتے جا رہے ہیں۔

بلکہ انہی حالات کے سبب و اب ایران کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ نہ ایک گاڑی ہوتی ہیں نہ دو بلکہ صرف مذکورہ بالا یونین کے ساتھ 200 ٹرک و ٹرالرز رجسٹرڈ ہیں۔اسکے علاہ بھی چند ٹرانسپورٹ یونینز ہیں۔

چنانچہ ہم نے ان تمام وقعات کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرنے کا ارادہ کیا۔ ہمارے ساتھ انٹر نیشنل میڈیا کا اہلکار بھی تھا اور لوکل پاکستانی میڈیا کے اہلکار بھی۔اب انہوں نے چونکہ اس پر باقاعدہ پروگرام کرنے تھے ،اسلئے رشوت والے وقوعات کی ریکارڈنگ وہی کرتے رہے۔ اور میں اپنے بلاگ کیلئے مواد اکھٹا کرتا رہا۔

بچپن میں ابو کے ساتھ کئی بار جانے کے بعد کافی عرصہ ہوا تھا کہ میں بھی طورخم نہیں گیا تھا،اسلئے میں انکے ساتھ جانےپر راضی ہوا۔چنانچہ اپنے چھوٹے کیمرے کو ساتھ لے جانے کیلئے تیار کردیا۔تاکہ محفلین اور بلاگ کے قارئین کیلئے تصاویر مہیا کئے جاسکیں۔


ہمارا دو گاڑیوں کا قافلہ روانہ ہوا۔ 
سب سے پہلے جب خیبر ایجنسی میں داخل ہوتے ہیں تو تختہ بیگ چیک پوسٹ آتی ہے جو کہ لیوی فورس، ملیشیاءاورخاصہ دار فورس کی مشترکہ چیک پوسٹ ہے۔یہاں باقاعدہ روزانہ 7-8 لاکھ روپے کی رشوت جمع کی جاتی ہے ،اور پھر انکو تقسیم کیا جاتا ہے۔


تختہ بیگ چیک پوسٹ کے قریب سڑک کی تعمیر کی ایک جھلک


[​IMG]


سڑکی کی تعمیر کے حوالے سے ایک ویڈیو


تختہ بیگ کے بعد جمرود بازار کا علاقہ ہے،جو کہ پشاور سے 25 منٹ کے فاصلے پر ہے۔
[​IMG]

سامنے باب خیبر کی ایک دھندلی جھلک
[​IMG]
جمرود بازار میں عین باب خیبر کے دائیں طرف آرمی اور ایف سی کا مشترکہ قلعہ ہے،اور بائیں طرف اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کا دفتر اور جیل۔
سڑک کنارے ایک قبائلی گھر 
[​IMG]

سامنے سے آنے والے ٹرک میں امریکی فوج کی عسکری گاڑی
[​IMG]

چونکہ سڑک زیر تعمیر ہے ،اسلئے بعض جگہوں پر پہاڑی ندی نالوں میں سے گذرنا پڑتا ہے۔یہ بھی دراصل ایک برساتی نالہ ہے،جس کےقریب ٹیلے پرملیشیاء فورس اور خاصہ دار کی مشترکہ پوسٹ موجود ہے۔
[​IMG]


سامان سے لدے ڈاٹسن کیلئے گھات لگائے فورسز، روپوں کی لالچ میں روزے کی حالت میں اور سخت گرمی میں بھی انہوں نے عارضی ٹھکانہ بنایا ہے ،کہ کوئی مال گاڑی چھوٹ نہ جائے۔
[​IMG]


ایک برساتی نالے میں سے گذرتے ہوئے،جس کے اوپر انگریز کے زمانے میں بنایا گیا ریل گاڑی کا پل نظر آرہا ہے۔
یہ سامنے سفید ٹو ڈی بھی ہمارئے قافلہ میں شریک ہے۔
[​IMG]
اسی کا ایک ویڈیو منظر


نالہ سے اوپر پکی سڑک کی طرف جانے کیلئے اس خطرناک چڑھائی پر چڑھنا پڑتا ہے۔
[​IMG]

[​IMG]

یہ کالی کرولا جو اوپرنظر آرہی ہے ،تو یہی ہماری سواری تھی۔

چڑھائی کتنی سخت ہے ؟
شائد ویڈیو دیکھے بغیر آپ اندازہ نہ کرسکیں۔



اوپر کی دو تصاویر میں جو پانی نظر آرہا ہے،یہ قدرتی چشمے کا پانی ہے۔یہ چشمہ اسی خراب راستے کے ساتھ بہتا ہے۔
ایک جھلک یہاں ملاحظہ کیجئے۔


ایک پہاڑی منظر
[​IMG]

ذیل کی تصویر میں کچھ خاص۔۔۔ 
[​IMG]

کچھ دیکھا ۔۔۔ ۔۔۔ !!!



نہیں ۔۔۔ ۔ 


تو دیکھئے انگریز کے زمانے کے ریلوے ٹنل جو ابھی تک قائم ودائم ہیں ،بس معمولی مرمت کرنی ہے۔


لو جی شگئی قلعہ تک پہنچ گئے۔
[​IMG]

[​IMG]

[​IMG]
شگئی قلعہ سے گزرنے کے بعد ایک پہاڑی کے پر تعمیراتی کا ہو رہا تھا ،لیکن نیچے اس سے تھوڑا فاصلے پر ایک فوجی کھڑا تھا، اور وہ بھی سادہ لباس میں لیکن مسلح، جیسے ہی اس نے ہماری گاڑیاں دیکھی ،اور کیمرئے دیکھے تو معلوم نہیں اس کے دل میں کیا خیال آیا کہ ہماری دوسری گاڑی کو روک لیا، اور لگا اس سے جھگڑنے۔

عجیب بات یہ دیکھئے کہ جس بندے سے یہ فوجی باتیں کر رہا تھا، اس کو اسی وقت سورس نے کال کی کہ باڑہ میں مزید بے گناہ لوگوں کی 18 لاشیں مل گئی ہیں،جس کے چہروں کو مسخ کیا گیا تھا،پورے باڑہ پر فوجی کنٹرول اور پھر بھی 18 مسخ شدہ لاشیں۔۔۔ ۔

شائد اس گیم کو ہم نہ سمجھ سکیں۔

چنانچہ فوجی اسکے ساتھ جھگڑتا رہا اور وہ بے نیاز فون پر باتیں کرتا رہا۔

ہمیں تو یہ بھی سمجھ نہیں آئی کہ اگر اسکی ڈیوٹی تھی تو سادہ لباس میں کیوں۔۔۔ ۔۔

بہر حال ہم نے اسکو بتایا کہ ہم یہاں انسپیکشن کیلئے آئے ہوئے ہیں تو پھر بندے سے جان چھوٹی۔

یہ رہا وہ فوجی
[​IMG]
تیر نشان اسکی کمر سے لٹکی بندوق کی طرف ہے۔

خیر چونکہ ہم نے اگے جانا تھا ،اسلئے اس واقعے کو اگنور کرکے ہم آگے علی مسجد (ایک علاقے کا نام) کی طرف بڑھ گئے۔ تصویر میں فورسز کا نشان اور خوش آمدیدی پیغام نمایاں ہے۔
[​IMG]


لو جی انگریزوں کے بنائے ہوئے ریلوئے ٹنل قریب سے دیکھنے ہیں ۔۔۔ 


تو یہ لو ۔۔۔ ۔۔
[​IMG]

[​IMG]
ساتھیوں نے بتایا کہ یہ تاریخی دیوار ہے، تاریخی دیوار کیوں بھئی ۔۔۔ ۔۔؟؟

یہ کسی کو نہیں معلوم تھا ،ہم نے بھی صرف تصویر کھینچنے پر اکتفاء کیا
[​IMG]

گرمی سے بچنے کیلئے سڑک کنارے جوہڑ کے پانی میں نہاتے ہوئے بچے

[​IMG]

لو جی طورخم آگیا۔ پہاڑی سے ایک فضائی منظر
[​IMG]
چونکہ ہم آے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ تھے ،اسلئے انہیں کے ڈیرے پر گئے یعنی جہاں ٹرکوں کی قطار بنی ہوتی ہے ،کسٹم کلیرنس کے بعد افغانستان جانے کی۔چونکہ روزہ تھا اور سخت گرمی تھی،اسلئے پیدل گھومنے پھرنے سے پرھیز کیا۔

اس پارکنگ میں ٹرک کھڑا کرنے کیلئے ان بیچاروں کو فی ٹرک 3000 روپے دینے پڑتے ہیں ۔جسکی وصولی خاصہ دار فورس کے ذمہ ہے۔اور اگر کوئی ڈرائیور یہ رشوت نہ دئے تو بس اسکا پھر کبھی بھی نمبر نہیں آئے گا۔
[​IMG]

[​IMG]

پارکنگ کے قریبی پہاڑی کا ایک منظر۔یاد رہے کہ اسی پہاڑی کا مغربی حصہ افغانستان کے زیر کنٹرول ہے۔
[​IMG]
یہ لیجئے اسکی تصویر بھی۔یہ جال ایک قسم کی باونڈری لائن ہےجسکو ڈیورنڈ لائن بھی کہا جاتا ہے، جس نے ایک ہی پشتون قوم کو ٹکڑےکردیا ہے۔
[​IMG]

اس تصویر میں تو افغانستان کا جھنڈا بھی نظر آرہا ہے۔
[​IMG]

[​IMG]

اب آپکو دکھاتا ہوں طورخم گیٹ ،جو کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک راستے کےطور پر استعمال ہوتا ہے۔یہاں پہلے ایک گیٹ نصب تھا،جسکو چندمہینے قبل افغان آرمی نے ٹینک کے ساتھ باندھ کر اکھاڑ لیا، اور دعویٰ یہ کیا کہ پاکستان نے یہاں پر چند میٹر تک افغانستان کی زمین پر قبضہ کیا ہے،اور شائد حقیقت بھی یہی ہو کہ اسکے بعد سے پاکستان نے اس واقعے کو دبا لیا،لھذا یہ راستہ اب بغیر گیٹ کے ہے۔

[​IMG]

[​IMG]

اوپر کی تصویر میں ٹرک افغانستان سے پاکستان کی حدود میں داخل ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان میں ٹریفک پاکستان کے برعکس چلتی ہے۔جس کا اندازہ آپ اس ٹرک سے لگا سکتے ہیں کہ یہ پاکستان کی حدود میں داخل ہونے کے بعد بائیں ہاتھ کی طرف جانے کی کوشش میں ہے۔ذیل کی تصویر میں بھی آپ یہی نکتہ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

ذیلی تصویر میں سامنے نظر آتی بلڈنگ پاکستان کے حدود میں واقع ہے۔


دیوار پر انگریزی میں لکھا ہے کہ


لوو پاکستان اور لیو پاکستان(پاکستان سے محبت کرو ،یا پاکستان چھوڑ دو)


جو بورڈ نظر آرہا ہے نیلا والا،تو اس پر لکھا ہے کہ اختتام حدود اسلامی جمہوریہ پاکستان۔
اختتام تک تو ٹھیک ہے ، رہا اسلامی + جمہوریہ تو اسکے بارئے میں آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔

آپکی اطلاع کیلئے عرض کردوں کہ یہی وہ طورخم گیٹ ہے ،جہاں سے اوگرا پاکستان کے سابق چئیر مین توقیر صادق صرف ایک ہزار روپے رشوت دئے کر ملک سے زمینی طور پر فرار ہوئے تھے۔
[​IMG]

اچھا جی کیمرہ مینوں نے ویڈیو شیڈیو بنا لئے ۔ساتھ میں تحصیل دار سے منہ ماری بھی ہوئی کہ اس پر جو اچانک بجلی گری تھی،پہلے تو بھڑکیں ماری لیکن جب ہم نے اسکے نکتے نوٹ کرنے شروع کئے تو پھر ہم اسکے اپنے بچے ہوگئے۔ لیکن ہم کہاں آسانی سے بچے بننے والے تھےبھئی۔

بڑا ہونے کیلئے پتہ نہیں کتنی روٹیاں کھائی ہیں، انکا ازالہ کون کرئے گا اور ہاں ابو کی مار الگ۔۔۔ ۔۔

جب بات نہ بنی تو انہوں نے اپنے پارٹنر یعنی ایف سی کرنل کو بُلایا ،کہ ان پر دباؤ ڈالو ۔

لیکن صحافی اور دباؤ توبہ توبہ۔۔۔ ۔ اخر وہی منتیں ،جناب ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ،روزہ ہے،عید آنے والی ہے۔
ہم نے کہا کہ بچے تو ہمارے بھی ہیں اور روزہ ہمارا بھی ہے،نیز عید بھی شائد ہم پر آپ سے پہلے آجائے کہ عموما پشتونوں کی عید سرکار سے ایک دن پہلے ہوتی ہے۔

تو کیا دیکھتے ہیں کہ میز کے دراز سے خاکی لفافے نکل آئے کہ جی یہ رکھ لیں ۔۔۔ ۔۔کام آئیں گے۔

ہمارے ایک ساتھی نے لفافے تحصیل دار کے ہاتھ سےلے کر اپنی جیب میں ڈال دئے ،





اور پھر۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔







اور پھر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔




پتہ نہیں وہ اسکی جیب تھی یا اندھا کنواں
وہ دن اور آج کا دن ،ہم لفافوں کی شکل دیکھنے کیلئے ترس گئے۔

اچھا جناب اب محفل میں کافی رش ہے اسلئے سب کچھ بتانے سے بہتر (اگرچہ اِس سب کچھ سے میں محروم ہی رہا )


واپسی کا سفر شروع کرلیں۔

تو جناب یہ ہوئی واپسی ۔۔۔ ۔۔
[​IMG]
طورخم کے قریب پہاڑ میں چند غاریں ،
وجہ کا علم مجھے بھی نہیں ،اور نا ہی کسی سے پوچھ سکا کہ حلق بالکل خشک تھا،

یہ تو شکر ہے کہ گاڑی میں ائیر کنڈیشن تھا ورنہ تو ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔

[​IMG]

اکثر قبائلی علاقوں کے برساتی نالوں میں انگریز نے یہ چھوٹے چھوٹے۔۔۔ ۔۔ (اب اسکو کیا کہتے ہیں)۔۔۔ ۔ بنائے ہیں۔
اچھا کیوں بنائے ہیں ،تو اسکا جواب میرے پاس بھی نہیں ہے۔
[​IMG]

راستے میں ایک اور ریلوئے پُل جو کہ انگریزوں نے بنایا تھا۔
[​IMG]

اور یہ رہے ریلوئے ٹنل
[​IMG]

یاد رہے کہ لنڈی کوتل تک ریلوئے لائن انگریزوں نے بچھائی تھی،اور لنڈی کوتل کے قریب ایک چھوٹا سا سٹیشن بھی بنایا تھا،یہ ایک تفریحی پوائینٹ تھا،اور انگریز یا دیگر سیاح سیاحت کیلئے اکثر یہاں تشریف لاتے تھے۔

میں جب چھوٹا تھا تو میں نے خود بھی اس ریل گاڑی کو دیکھا تھا جو کہ کوئلے سے چلتی تھی۔ اور شائد ہر جمعہ یا ہر اتوار کو لنڈی کوتل صبح جاتی اور شام کو واپس لوٹتی تھی۔
لیکن پھر آج سے تقریبا کوئی دس بارہ سال قبل وہ ٹرین بند کردی گئی اور ساتھ میں اس پٹھڑی کو بھی تباہی کے دھانے پر لے جایا گیا۔جسکی ایک جھلک آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔



راستے میں ایوب آفریدی کا گھر بھی آتا ہے،ایک مشہور ہئروئن سمگلر،کہ جس نے ایک موقع پر زرداری کے ساتھ بھی ہاتھ کیا تھا۔اور زرداری ہاتھ ملتے رہ گئے تھے۔بھئی آفریدی کے ساتھ پالا جو پڑا تھا۔


ویسے تو ٹرکوں کے پیچھے نہیں لکھا ہوتا کہ


بوم بوم آفریدی


انکا گھر اندر کافی بڑا ہے اور اسمیں ہر چیز باہر کی لگوائی گئی ہے۔ لیکن ابھی شائد وارثین نے اس محل کو اپنی حالت پر نہیں چھوڑا۔بہر حال یہ ایک الگ موضوع ہے۔اور لکھنے کیلئے مواد بھی دستیاب نہیں۔تو اس موضوع کو یہی چھوڑتے ہیں، ہاں اسکے گھر کی بیرونی دیوار کی ایک جھلک آپ دیکھ سکتے ہیں



واپسی پر پھر جمرود کے علاقے میں باب خیبر سے گذرتے ہوئے
[​IMG]


[​IMG]

[​IMG]

اختتام کرتا ہوں اپنے اس مضمون کا اس پاک وطن کے جھنڈے کی تصویر سے جو کہ ہمارے گذرتے ہوئے باب خیبر کے اوپر لہرا رہا تھا۔

13 تبصرے:

  1. واہ جی واہ مزا ہی آگیا .بہت خوب .کسی دن کراچی بھی آؤ یار خوشبو لگاکے اور کیمرہ لیکر یہاں بھی بہت کچھ دیکھنے دکھانے کو :)

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. آپکی دعوت دینے کا شکریہ۔کراچی ایک بار گیا تھا ،اور پھر وہاں پھنس گیا تھا، اسلئے فی الحال تو توبہ ہے۔ہاں کبھی رزق وہاں لکھا تھا،اور اسکے پیچھے جانا مجبوری تھی ،تو ضرور جائیں گے۔

      حذف کریں
  2. اعلی کام کیا جناب
    لیکن خاکی لفافے میں کیا تھا؟
    اگر تھا تو ساپی بھی مفت کی پی جاتے ہیں؟

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. جاپانی صاحب ،باریک نکتہ پکڑا ہے۔خاکی لفافے میں عیدی تھی ،کہ یہ عیدی لیں اور رپورٹ حذف کریں۔
      لیکن ساتھیوں نے عیدی بھی لی،اور رپورٹ بھی نشر کی۔جیو پر چل چکی ہے۔

      تحصیل دار کے روپے بھی گئے اور رپورٹ بھی ان آئر۔

      حذف کریں
  3. شکریہ ۔ آپ نے بیتے دن یاد کرا دیئے اور وہ بھی باتصویر ۔ جناب ایک بار شہ گائی قلعہ کے قریب قلعہ سے بھاگ کر ہماری گاڑی سے پہلے سڑک پر پہنچنے والے فرنٹیئر کنسٹیبولری کے جوان نے تو ہمارے کیمرے سے فلم نکلوا لی تھی اور اسے روشنی کی طرف کر کے دیکھ رہا تھا کہ اس میں کیا ہے ۔ ہمارے سفر کا ریکارڈ برباد ہو گیا تھا ۔ اُن دنوں وڈیو ایجاد نہیں ہوئی تھی اور چوڑی سڑکوں کی بجائے سانپ کی طرح بل کھاتی تنگ سڑک تھی جو کئی جگہ اتنی تنگ ہوتی تھی کہ ایک گاڑی گذر سکتی تھی ۔ ایسا میرے ساتھ 1978ء میں جرمنی میں ڈوسل ڈورف ایئر پورٹ پر بھی ہوا تھا جب میں بیوی بچوں کے ساتھ نُرن برگ جا رہا تھا ۔ سیکیورٹی والے نے کیمرہ کھول کے اس کا معائنہ کیا تھا اور میری سیر کا سارا ریکارڈ برباد کر دیا تھا ۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. انکل
      تحریر کی پسندیدگی کا شکریہ
      میں بھی اس معاملے میں کافی محتاط تھا،طورخم گیٹ کی تصاویر بڑی احتیاط سے نکالی ہیں،کہ مبادا انکی نظر میں نہ آجاؤں۔

      حذف کریں
  4. یار آپ تو بڑے وہ ہیں عیدی بھی رکھ لی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. ہمیں تو جناب مفت میں سیر کروا دی آپ نے :)
    بہت بہت شکریہ تصاویر شئیر کرنے کیلئے۔
    امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. بے شک کفر کے ساتھ معاشرہ زندہ رہ سکتا ہے مگر بے انصاف معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا

    جواب دیںحذف کریں
  7. آپ کی تحریر پڑھ کر مجھے 1999 میں طورخم تک کا اپنا سفر یاد آیا۔ پرانی یادیں بھی تازہ ہوگئیں۔ یہ نا انصافیاں اور رشوت ستانیاں ہماری جڑوں کو ہمیشہ کھوکھلا ہی کرتی رہی ہیں۔ میرے ایک دوست جو کہ بسلسلہ روزگار افغانستان میں مقیم تھا اُس نے بی ایک تحریر ضبط قلم کی تھی اور کچھ ایسے ہی بدعنوان عناصر کا ذکر کیا ہے جو کہ بارڈر کے دونوں اطراف موجود ہیں۔ http://noonwalqalam.blogspot.com/2013/05/blog-post_7.html

    جواب دیںحذف کریں
  8. بھائی آپ نے "انگریز کا زمانہ" کچھ زیادہ ہی لمبا کردیا ۔۔۔ زمانہ تو پختونوں کا ہی تھا۔۔۔ بس وہ انگریز کچھ دنوں کے لیے مہمان آ گئے تھے :d

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. حکم شاہ بلاگ پر خوش آمدید :)
      اپنا قیمتی وقت نکال کر بلاگ پوسٹ پڑھنے کیلئے شکریہ قبول کیجئے x-)

      انگریزوں کا زمانہ اسلئے لکھا کہ حکومت انکی تھی،اور تاریخ میں اکثر اسی کا زمانہ لکھا جاتا ہے ،جسکی علاقے پر حکومت ہو۔

      حذف کریں

محترم بلاگ ریڈر صاحب
بلاگ پر خوش آمدید
ہمیں اپنے خیالات سے مستفید ہونے کا موقع دیجئے۔لھذا اس تحریر کے بارے میں اپنی قابل قدر رائے ابھی تبصرے کی شکل میں پیش کریں۔
آپ کے بیش قیمت خیالات کو اپنے بلاگ پر سجانے میں مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے۔

۔ شکریہ

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں
UA-46743640-1