جی ہاں وہ جو کہتے ہیں نا کہ افٹر شاکس، تو کراچی کے ایک مدرسہ کے خلاف سماء ٹی وی کی من گھڑت رپورٹ کے افٹر شاکس اب بھی محسوس کئے جارہے ہیں ۔
ایک طرف اس رپورٹ کو بہانہبنا کر پوش علاقوں میں مدارس بند کرنے کے نوٹس جارہی ہوئے ہیں ،جس کے سبب ہزاروں بچوں کی مفت تعلیمی سلسلے میں رکاوٹ پیداہوجائے گی۔
دوسری طرف نشیؤں کے اصلاحی مرکز کو بند کرنے کے بعد جو مریض اپنے گھروں کو واپس بھجوا دئے گئے تو ان میں سے کئی ایسے ہیں کہ اب ان کے والدین کاراحت و آرام غارت ہوگیا ہے، اسلئے کہ اب انکو اپنے ان نشئی اولاد سے جان کے خطرئے لاحق ہوئے ہیں ۔
چنانچہ 60 سالہ احمد شاہ کا بیٹا محمد خان ایک ہیروئنچی اور چرسی بندہ ہے۔چوریوں کا عادی شخص ہے۔کئی بار چوریوں کے سلسلے میں سزا پا چکا ہے۔
کسی نے اسکے باپ کو اصلاحی مرکز کے بارئے میں بتایا تو انہوں نے جانچ پڑتال کے بعد اپنے بیٹے کو اصلاحی مرکز کے حوالے کیا ،اور بیٹے کو بھاگنے سے روکنے کیلئے خود ہی بازار سے زنجیر وتالہ لے کر آگیا۔
لیکن بیٹے نے اسکو کہا کہ جب بھی میں رہا ہو جاوں تو تمہیں قتل کرونگا۔
چنانچہ پولیس چھاپے کے روز بھی 60 سالہ احمد شاہ واویلا کر رہا تھا کہ پولیس نے میرئے بیٹے کو رہا کرادیا ،اب میرا بیٹا مجھے قتل کرئے گا۔
نیز اسی طرح کے ایک اور واقعے میں ایک شخص حاجی ہاشم عرف حاجی کارو کے دو بیٹے ہیں۔بڑے بیٹے کا نام مجید جبکہ دوسرئے بیٹے کا نام حمید ہے۔
یہ دونوں بھائی مجید اور حمید دونوں نشئی تھے ۔ہر وقت زیادہ نشہ کرنے کے سبب بڑئے بیٹے مجید کی بینائی ختم ہوگئی ہے۔
لیکن نشے کی لت سے چُھڑوانے کیلئے حاجی ہاشم اپنے چھوٹے بیٹے کو سھراب گوٹھ کے اس اصلاحی مرکز میں لے آیا اور اسکو وہاں پر داخل کرادیا۔حاجی ہاشم اس اصلاحی مرکز کو فیس کی مد میں 3000 روپے ماہانہ ادا کرتا تھا۔
اصلاحی مرکز میں اسکے بیٹے کا کافی افاقہ ہوا تھا اور اسکا بیٹا حمید پنج وقتہ نمازی بن گیا تھا اور نشہ کی عادت بالکل ہی چھوٹ گئی تھی۔
چنانچہ پولیس چھاپے کے روز اصلاحی مرکز بند ہونے کے سبب اسکو بھی والدین گھر لے آئے۔
چونکہ حاجی ہاشم اور انکی اہلیہ اپنے علاقے میں منشیات فروشوں کے خلاف آواز اٹھاتے تھے،اسی لئے علاقے کے منشیات فروش انکے دشمن بن گئے تھے اور موقع کے تاک میں تھے۔
ایک روز حاجی ہاشم پیشی کیلئے عدالت چلے گئے کہ انکو اطلاع ملی کہ انکے بیٹے حمید کو قتل کر دیا گیا ہے۔وقوعہ کے روز حمید ظہر کی نماز قریبی مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھ کر موٹر سائیکل پر گھر سے باہر نکلا لیکن پھر اسکی لاش ہی گھر پہنچ سکی۔
حمید کے والد حاجی ہاشم نے میڈیا کو بتایا کہ اسکی جسم پر سوئیوں کے نشانات تھے اور ایسا لگتا تھا کہ کسی نے اسکو حد سے زیادہ نشہ دئے کر مارا ہے ۔ انہوں نے مقامی منشیات فروشوں ،سماء ٹی وی چینل اور پولیس کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹہرایا ہے۔
حاجی ہاشم نے میڈیا کو بتایا کہ سماء ٹی وی کے من گھڑت اور بے بنیاد خبر کی بدولت میرئے بیٹے کا علاج مکمل ہونے سے پہلے اس مرکز کو پولیس نے بند کردیا۔
جس کے سبب مجبورا مجھے اپنے بیٹے کو گھر لانا پرا جہاں وہ منشیات فروشوں کا نشانہ بن گیا۔
ملعون سماء ٹی وی اور ملعون پاکستانی پولس پر لعنت بے شمار۔۔۔۔۔
جواب دیںحذف کریںجنھوں نے انکھیں ہی بند کی ہوں انہیں کیا نظر آئے گا۔۔۔ وہ تو بس غلامی کی زندگی اپنانے پر خوش ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب دیںحذف کریں....
جواب دیںحذف کریںایک روز حاجی ہاشم پیشی کیلئے عدالت چلے گئے کہ انکو اطلاع ملی کہ انکے بیٹے حمید کو قتل کر دیا گیا ہے۔وقوعہ کے روز حمید ظہر کی نماز قریبی مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھ کر موٹر سائیکل پر گھر سے باہر نکلا لیکن پھر اسکی لاش ہی گھر پہنچ سکی ///
براہ کرم خبر کا حوالہ دیجیے
گمنام صاحب:
جواب دیںحذف کریںاپنا نام بتاتے ہوئے جھجک کیسی۔
خبر کے حوالہ کیلئے 19 دسمبر 2011 کی روزنامہ امت دیکھ لئجئے
چلو کم از کم شرم تو کی ہے۔۔۔۔
جواب دیںحذف کریںانکل ٹام نے تو ایک تاریک خیالیے کی سوانح میں بتا دیا تھا کہ صحافی کیسے بنتے ہیں اور انکی پرورش اور تعلیم کہاں ہوتی ہے ۔ تو پھر ان سے کیسی امیدیں ۔ میں نے ایک اور مضمون میں صحافیوں کو کتا کیا تھا بے حس کتوں کی بستی ۔ گندی صحافت اور رنڈی بازی میں فرق یہ ہے کہ رنڈی اپنا جسم بیچتی ہے اور صحافی ضمیر ۔ یہ سالے بش اور مائیک مولن جیسے مسلمان دشمنوں سے کچھ بھی کم نہیں ۔ ان میں اور ریمنڈ ڈیوس میں صرف نام کا فرق ہے ۔ قتل ریمنڈ ڈیوس نے بھی کیا تھا قتل انہوں نے بھی کر دیا ۔ انکا ایک ہی اصول ہے مینو نوٹ وکھا میرا موڈ بنے ۔
جواب دیںحذف کریں[...] سما ء ٹی وی اور پولیس قتل کے ذمہ دار قرار [...]
جواب دیںحذف کریںکوڈ حاصل کرنے کیلئے شکل پر کلک کیجئے
اشکال تبصرے میں داخل کرنے سے پہلے ایک بار سپیس ضرور دیں۔شکریہ