تازہ ترین
کام جاری ہے...
جمعہ، 31 جنوری، 2014

اسلحہ لائسنس کیسے بنائیں

جمعہ, جنوری 31, 2014
گزشتہ دنوں دل میں خیال آیا کہ اکثر لوگ حالات کی سنگینی کے سبب غیر قانونی اسلحہ ساتھ لے کر پھرتے ہیں۔ جب اُن سے لائسنس کا پوچھا جاتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ لائسنس طریقہ کار کافی پیچیدہ اور لمبا ہے ،اسلئے ہم لائسنس کے حصول کیلئے کوشش ہی نہیں کرتے۔
بعض دوسرے لوگ لائسنس حصول کے طریقہ کار سے ناواقفیت کی بناء پر لائسنس حاصل نہیں کرپاتے۔

بعض لوگ ایجنٹوں کے شکنجوں میں پھنس جاتے ہیں ،اور  دوگنی قیمتوں پر اسلحہ لائسنس حاصل کرتے ہیں۔ پھر یہ مسئلہ الگ ہوتا ہے کہ ایجنٹ کا بنایا ہوا لائسنس اصلی بھی ہے کہ نہیں۔

چنانچہ میں نے مناسب جانا کہ کیوں نا اسلحہ لائسنس  حصول کے طریقہ کار کو سامنے لایا جائے ،تاکہ اس مہنگائی کے دور میں بندہ بے جا مصارف اور ایجنٹوں کے ہتھ کنڈوں سے بچ سکے۔
اگر آپ  اسلحہ لائسنس بنوانا چاہتے ہیں تو  آپکو اپنے علاقے کے ڈپٹی کمشنر آفس  میں لائسنس برانچ سے  یا کسی اسلحہ ڈیلر سے لائسنس فارم لے کر پُر کرنا ہوگا۔
آپکےشناختی کارڈکی ایک فوٹو کاپی، تین عدد پاسپورٹ سائز تصاویر اور 150 روپے کا سٹامپ پیپر بھی لائسنس فارم کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا۔
سٹامت پیپر عام طور پر یا تو وکلاء کچہری میں ملتے ہیں، یا قریبی آس پاس کے علاقوں میں جو وکلاء نے دفاتر کھولے ہوتے ہیں،وہاں سے بھی آپکو سٹامپ پیپر  مل جائیں گے۔
سٹامپ پیپر  خریدتے وقت وکیل صاحب  کو بتائیں کہ سٹامپ پیپر اسلحہ لائسنس کے حصول کیلئے لکھوانا ہے ،وہ آپکو اسلحہ لائسنس کیلئے درخواست بنام ڈی سی او لکھ دئے گا ،اور ساتھ میں اپنی مہر لگا کر اسکی تصدیق بھی کرلے گا۔

بعض ڈی سی اوز  اپنے متعلقہ اضلاع کے علاوہ  دوسرے اضلاع والوں کیلئے اسلحہ لائسنس جاری نہیں کرتے ،تو اس صورت میں یا تو آپکو اپنے مستقل پتے والے ضلع میں لائسنس  بنوانا ہوگا، بصورت دیگر ڈپٹی کمشنر سے مل کر اسکو  مطمئن کرنا ہوگا کہ میں کیوں اور کن وجوہات کے بناء پر اپنے آبائی ضلع نہیں جا سکتا کہ وہاں سے لائسنس بنوا سکوں۔
مثلا اگر ایک بندہ کسی ایسے علاقے سے تعلق رکھتا ہے ، کہ جہاں اسکا جانا خطرے سے خالی نہ ہو ، تو ڈی سی او سے مل کر اسکو قائل کیا جاسکتا ہے ، کہ میری جان کو خطرہ ہونے کے سبب میں اپنے آبائی ضلع نہیں جا سکتا، اسلئے میرے عارضی پتے پر میرا لائسنس جاری کیا جائے۔
قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے اگر ممکن ہو تو اپنے( (Assistant Political Agent کے دفتر اسلحہ لائسنس کے حصول کیلئے فارم جمع کروائیں گے۔جس کا مزید طریقہ کار وہاں سے ہی معلوم کیا جا سکتاہے۔

فارم پُر کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ پولیس  ویری فیکیشن کا ہوتا ہے ۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ آپکا لائسنس فارم ڈپٹی کمشنر آفس سے  سی سی پی او(چیف کیپٹل پولیس آفسر) آفس چلا جاتا ہے ،اور وہاں سے متعلقہ علاقے کے ڈی ایس پی کے پاس چلا جاتا ہے اور وہاں سے متعلقہ تھانےکے انچارج کے پاس بھیج دیا جاتا ہے ۔ تھانے  سے یہ رپورٹ دئے دیا جاتا ہے کہ درخواست دہندہ کسی طور پر دہشت گردی یا دوسرے جرائم میں ملوث نہیں ہے۔اسکے بعد پھر یہ لائسنس فارم ڈی اس پی کے پاس اور پھر سی سی پی او کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔اور وہاں سے پھر ڈپٹی کمشنر آفس بھیج دیا جاتا ہے۔

بقول لائسنس برانچ کے ایک کلرک، جو فارم  سی سی پی او آفس چلاجاتا ہے تو اسکی واپسی نا ممکن ہوتی ہے ،کہ وہ لائسنس فارم  اُدھر ہی فائلوں میں دب جاتا ہے ،اسلئے اگر آپ سرکاری ملازم نہیں ہیں تو  بہتر یہ ہوگا کہ آپ کچھ وقت نکال کر خود ہی یہ مرحلہ سر کرلیں،یا پھر کسی ایجنٹ کی خدمات حاصل کرلیں،جو کہ 4 یا 5 ہزار میں آپکو تیار لائسنس حوالہ کردے گا۔

اور اگر آپ سرکاری ملازم ہیں ،تو پولیس ویریفکیشن کی ضرورت نہیں ،بلکہ صرف  اپنے محکمے سے ایک کورننگ لیٹر لائیے،کہ جس میں یہ لکھا ہوا ہو کہ فلاں اس محکمے میں فلاں پوسٹ پر کام کر رہا ہے ۔اور اپنے متعلقہ آفسر سے  کورننگ لیٹر پر دستخط کرایئے ۔اس کے ساتھ اپنے ماہانہ تنخواہ کی پے بل  کی ایک کاپی بھی لادیجئے۔یہ دونوں  کاغذات اپنے لائسنس فارم کے ساتھ منسلک کیجئے ۔اور لائسنس برانچ میں متعلقہ کلرک کےپاس جمع کیجئے۔

لائسنس برانچ کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جب انکے پاس 50 -100 درخواستیں جمع ہوجاتی ہیں، تو پھر اسکی ایک لسٹ بنا دیتے ہیں،اور پھر وہ لسٹ ڈپٹی کمشنر کو بھیج دیتے ہیں، جو ان لسٹوں پر دستخط کرکے ان درخواستوں کو منظور کرلیتا ہے۔

یہ عموما  دو قسم کی لسٹیں ہوتی ہیں۔ ایک سرکاری درخواستوں والا لسٹ اور دوسرا غیر سرکاری درخواستوں والا۔
چنانچہ جس کیٹیگری کے تحت آپ نے لائسنس فارم جمع کرایا ہوگا ،اسی لسٹ میں آپکا نام لکھا ہوا ہوگا۔

جب یہ دونوں قسم کی لسٹیں ڈی سی او منظور کرلے، تو اگر آپ نے پرائیوٹ لائسنس فارم جمع کرا یا تھا ، اور لسٹ میں آپکا نام بھی آچکا ہے ،  تو  اب آپ نیشنل بینک  کے کسی بھی برانچ میں چلے جائیں اور وہاں لائسنس فارم کیلئے مخصوص فارم حاصل کیجئے ،اس فارم کو پُر کرکے  1500 روپے (پستول۔ خیبر پختون خواہ حکومت۔) بینک میں جمع کرالیں۔

بینک آپکو ایک رسید حوالہ کردے گا۔ اس رسید کو لا کر لائسنس برانچ واپس آجائیں اور متعلقہ کلرک کو رسید حوالہ کردیں ۔ کلرک آپکے لائسنس فارم کے ساتھ وہ رسید بھی منسلک کردئے گا

اگر آپ سرکاری ملازم ہیں تو لائسنس برانچ سے معلوم کیجئے کہ کیا آپکے محکمہ کیلئے اسلحہ لائسنس فری میں بنتا ہے کہ نہیں۔
دراصل بعض سرکاری محکموں کو لائسنس فیس سے استثناء حاصل ہے اور بعض سرکاری محکموں کو لائسنس بناتے وقت فیس جمع کرانے کی استثناء حاصل نہیں ہوتی۔
اگر آپ کا محکمہ لائسنس فیس سے مستثنیٰ ہے تو بینک جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ آپکو اسلحہ لائسنس فری میں مہیا کیا جائے گا۔
اور اگر آپکا محکمہ لائسنس فیس سے مستثنیٰ نہیں ہے تو آپ کو نیشنل بینک کے کسی برانچ میں 1500 روپے(پستول۔ خیبر پختون خواہ حکومت)لائسنس فیس جمع کرانا ہوگا۔اور پھر جو رسید بینک آپکو دئے گا، اس رسید کو لا کر لائسنس برانچ واپس آجائیں اور متعلقہ کلرک کو رسید حوالہ کردیں ۔ کلرک آپکے لائسنس فارم کے ساتھ وہ رسید بھی منسلک کردئے گا

آپ کی کاغذی کاروائی تقریبا مکمل ہوچکی ہے۔کلرک آپ سے دو سو روپے کاپی فیس جمع کرادئے گا اور اسکی رسید کاٹ کر آپکے حوالے کردے گا۔ آپکو   مخصوص دن یا وقت بتا دئے گا ،جس دن آپ کو لائسنس کاپی مل جائے گی۔عموما یہ ایک سے دون دن تک کا وقت دیتے ہیں۔

چنانچہ اس دن جب آپ لائسنس برانچ تشریف لے جائیں تو آپکو لائسنس کاپی حوالہ کردی جائے گی۔
اب مرحلہ آتا ہے لائسنس پر اسلحہ درج کرنے کا ،تو اس بارے میں آپ نے یہ کرنا ہے کہ آپ نے اگر اسلحہ نہیں خریدا ہے ،تو آپ کسی اسلحہ ڈیلر کے پاس جائیں اور وہاں سے اسلحہ خریدیں۔اسلحہ خریدنے کی جو رسید آپکو ملے ،تو اسی رسید کو واپس لائسنس برانچ لے آئیں ،لائسنس برانچ کا کلرک آپکا خریدا ہوا اسلحہ آپکے لائسنس میں درج کردئے گا،اور اسپر اپنی مہر لگا دئے گا۔

اور اگر آپ نے اسلحہ پہلے سے خریدا ہے تو اسکے لئے نمبر کسی اسلحہ ڈیلر سے وصول کرلیں ،اور پھر لائسنس برانچ چلے جائیں تاکہ آپکے اسلحے کا اندراج آپکے لائسنس پو ہو سکے۔

اب آپکا اسلحہ نمبر  لائسنس کاپی پر درج کردیاگیا ہے۔آپ اسکو قانون کے مطابق اپنی حفاظت کیلئے پھرا سکتے ہیں۔ 



5 تبصرے:

  1. اتنا شعور دینے کا شکریہ۔ آپ نے علم بانٹا ہے، اللہ پاک آپ کو جزا دے۔ آمین

    جواب دیںحذف کریں
  2. آپ تعریف کے مستحق ہیں ۔ اللہ جزائے خیر دے ۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ نہ ہو اسلحہ اور نہ مشکل لائسنس بنوانے کی پڑے ۔ میں نے جوان ہونے کے بعد گذرنے والی آدھی صدی میں دیکھا ہے کہ اسلحہ کی ضرورت صرف فوج اور پولیس کو ہوتی ہے ۔ عام آدمی جو صرف اپنا دفاع کرنا چاہتا ہے وہ کم ہی درست طریقہ سے اسلحہ استعمال کر پاتا ہے ۔ میں تو موت کو تلاش کرتا رہا مگر موت ہر بار دُم دبا کر بھاگ گئی ۔ انسان کا سب سے بڑا اور مؤثر اسلحہ اللہ پر یقینِ کامل ہے ۔ میں متقی یا پرہیزگار نہیں ہوں ۔ مجھ میں موجود تمام قباحتوں کے ہوتے ہوئے بھی مجھے فقط اس ایک یقین نے کئی بار بچایا ہے

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بے شک موت و زندگی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
      لیکن کبھی کبھی اسلحہ ہوتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے دوسرا بندہ ساتھ ہے۔

      چند دن قبل ایک سنسان علاقے میں اکیلا بمع گاڑی موجود تھا۔آدھی رات تھی،دعائیں پڑھ رکھی تھی،دیکھا کہ لوفروں کا ایک ٹولہ میری سمت آرہا ہے۔چنانچہ فورا گاڑی سے دور کھڑا ہوگیا اور ہاتھ پستول پر رکھ دیا۔

      کہ اگر انہوں نے چھیڑ چھاڑ کردی تو بس پھر پستول نکالنا ہے۔

      لیکن شکر اللہ تعالیٰ کا کہ وہ سیدھے گزر گئے ۔

      حذف کریں
  3. منصور بھائی، ایک زحمت کریں، کسی وقت ایک مضمون لکھ ڈالیں، جس میں ممنوع بور اور قانونی طور پہ جائز اسلحہ کی تھوڑی تفصیل فراہم کر دیں، تاکہ جو لوگ ذاتی تحفظ کے لیے اسلحہ رکھنا اور خریدنا چاہتے ہیں، وہ اپنی جیب اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے خریداری کر سکیں۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. فلک شیر بھائی فی الحال اس بارے مجھے کچھ زیادہ علم نہیں ۔ جیسے ہی اس عنوان پر دسترس حاصل ہوجائے تو قارئین کی نذر کردونگا۔

      حذف کریں

محترم بلاگ ریڈر صاحب
بلاگ پر خوش آمدید
ہمیں اپنے خیالات سے مستفید ہونے کا موقع دیجئے۔لھذا اس تحریر کے بارے میں اپنی قابل قدر رائے ابھی تبصرے کی شکل میں پیش کریں۔
آپ کے بیش قیمت خیالات کو اپنے بلاگ پر سجانے میں مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے۔

۔ شکریہ

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں
UA-46743640-1